بدھ 1 جولائی 2026 - 23:58
عاشوراء کی مجالسِ عزا نے پوری تاریخ میں انسانی جذبات سے ربط قائم کیا ہے

حوزہ/ حرم مطہر حضرت معصومہ (س) کے خطیب نے کہا: کربلا تین عناصر—عقلانیت، حماسہ اور عاطفت—کا مرکب ہے۔امام حسین علیہ السلام نے اپنے خطبات کے ذریعے عقلانیت کا ہتھیار استعمال کیا، حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور اہل بیت علیہم السلام نے اپنے حماسی کردار کے ذریعہ عزت و وقار کا مظاہرہ کیا اور عاشورا کی مجالسِ عزا نے پوری تاریخ میں انسانی جذبات سے ربط قائم کیا ہے۔ 

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین سید حسین مومنی نے حرم مطہر حضرت معصومہ (س) میں منعقدہ مجلس عزا میں رہبر شہید (رہ) کے اس فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ "کربلا عقلانیت، حماسہ اور عطوفت کا مرکب ہے"، کہا: یہ تینوں عناصر کربلا کو ہمیشہ زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ جو کچھ کربلا میں ہوا وہ عزت اور حماسہ کی بنیاد پر تھا؛ یہاں تک کہ آنسو اور مصائب بھی عزت کے عروج پر رونما ہوئے۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے ابن زیاد کی مجلس میں فرمایا: "میں نے خوبصورتی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔" یہ اسی عزت و وقار کی علامت ہے جو اہل بیت علیہم السلام نے مصائب کی انتہا پر دکھائی۔

انہوں نے مزید کہا: حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے میدانِ قتل گاہ میں جب دیکھا کہ امام کی جان خطرے میں ہے اور کوئی ان کا دفاع کرنے کے لیے نہیں اٹھتا تو خود میدان میں داخل ہوئیں۔ کوفہ اور شام کے خطبات میں اہل بیت علیہم السلام نے عقلانیت، حماسہ اور عطوفت کے تین ہتھیاروں سے لوگوں کو ہدایت کی دعوت دی۔ امام سجاد علیہ السلام نے کوفہ میں خطبہ پڑھا اور اپنے کلام سے لوگوں کو رلا دیا مگر اتنی بیداری کے باوجود کوفیوں نے خاموشی اختیار کی اور اس خاموشی نے انہیں اس قتل میں شریک جرم بنا دیا۔ اگر کوفہ والے ان دنوں بول پڑتے تو تاریخ کا نقشہ بدل جاتا۔

حرم مطہر حضرت معصومہ (س) کے خطیب نے مزید کہا: امام حسین علیہ السلام اپنے شیر خوار بچے کی مصیبت اور شام کے کھنڈرات میں اپنی تین سالہ بیٹی کے مصائب کے بیان کے ذریعہ تاریخ سے عطوفت کے انداز میں مخاطب ہوتے ہیں جو رشد و بیداری کا سرچشمہ بنی ہے۔ آج بھی فلسطین اور لبنان کے مظلوم بچوں کی تصاویر اسی تاریخی عطوفت کو زندہ کر رہی ہیں۔ ہمیں ان تینوں ہتھیاروں—عقلانیت، حماسہ اور عطوفت—کو معاشرے کی ہدایت کے لیے استعمال کرنا چاہیے اور اجازت نہیں دینی چاہیے کہ یہ معاشرے میں کمزور پڑ جائیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha